Efficient tag
#Sunopak
PTI Imran Khan Full Speech Today Start Election Campaign First Jalsa Mianwali | election 2018
PTI Imran Khan Full Speech Today Start Election Campaign First Jalsa Mianwali . Mianwali Jalsa: Imran Khan kicks off PTI election campaig Chairman PTI Imran Khan kicks off his party’s election campaign from Mianwali Jalsa today. According to sources within PTI, Imran Khan is going to attend 120 rallies in the next 30 days. Mianwali is one of the five constituencies, apart from Islamabad, Lahore, Bannu, and Karachi from where Imran Khan is contesting elections. During his speech at Mianwali, Imran Khan criticized PMLN for ruining all government institutions. However, Imran Khan’s marathon of rallies for the next 30 days will include every constituency of Pakistan. “Imran Khan will attend four rallies every day”, said a PTI official. PTI has fielded strong candidates this elections and has favoured electables for party tickets. “We wanted to give tickets to those who actually know the art of running an election campaign”, said Imran Khan. “Winning elections is an art”, he further said. The real battle however, will be fought between PTI and PMLN in Punjab where there are a total of 141 national assembly seats out of the total 272. In most of the constituencies, neck to neck competitions are expected and the final tally can come out in any one’s favour.
رہائشی سہولیات کے فقدان کے باعث سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر پہنچنے میں مشکلات
سیاحتی سیزن کے باعث نجی ہوٹلز میں گنجائش ختم ہوگئی ہے اور نئے آنے والے سیاح کمروں کے نہ ہونے اور اضافی رقم لینے کی شکایت کر رہے ہیں، اس کے علاوہ گاڑیوں کے رش کے باعث فلنگ اسٹیشنز پر پیٹرول اور ڈیزل ختم ہوچکا ہے
اس صورتحال کے بارے میں ایک پمپ مالک سردار حسین کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث کو مطلوبہ مقدار میں ایندھن فراہم نہیں کرپارہے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر روزانہ 2 سے 3 ہزار لیٹر فروخت ہوتا ہے لیکن اس وقت یومیہ ضرورت 30 ہزار لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
گلگت کی صورتحال کے بارے میں ایک مقامی شخص ارشاد حقانی کا کہنا تھا کہ گلگت-نالتر سڑک بری حالت میں ہے، جس سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشہور سیاحتی مقام نالتر وادی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جو گلگت ٹاؤن سے 25 کلومیٹر دور ہے لیکن اس دوران انہیں کافی پریشانی درپیش آرہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ عام طور پر یہ سڑک لینڈلائڈنگ کے باعث بند ہوتی ہے۔
اس بارے میں ایک اور مقامی شخص صفدر حسین نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیاحوں کا سفر محفوظ بنانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے اور انہیں سہولیات فراہم کرے۔
سیاحتی مقام کے حوالے سے ایک بین الاقوامی ٹور آپریٹر رحمت کا کہنا تھا کہ ضلع شھگر سے اسکولی تک 100 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی سڑک ابتر صورتحال میں ہیں جس سے غیر ملکی گروہوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایک سیاح عارف حسین کا کہنا تھا کہ ریجن میں 3 جی اور 4 جی کی انٹرنیٹ سروس اور بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث ان کو سفر میں بے چینی کا باعث ہے۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز دیامیر میں گلگت بلتستان سیکریٹری داخلہ جواد حسین کی جانب سے گونر فارم کے مقام پر گلگت بلتستان مشترکہ انٹری پوائنٹ کا افتتاح بھی کردیا گیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری بھی اس چیک پوسٹ پر تعینات ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کو ہر سہولت فراہم کرنے اور ان کا سفر محفوظ اور یاد گار بنانے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر روزانہ 2 سے 3 ہزار لیٹر فروخت ہوتا ہے لیکن اس وقت یومیہ ضرورت 30 ہزار لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
گلگت کی صورتحال کے بارے میں ایک مقامی شخص ارشاد حقانی کا کہنا تھا کہ گلگت-نالتر سڑک بری حالت میں ہے، جس سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشہور سیاحتی مقام نالتر وادی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جو گلگت ٹاؤن سے 25 کلومیٹر دور ہے لیکن اس دوران انہیں کافی پریشانی درپیش آرہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ عام طور پر یہ سڑک لینڈلائڈنگ کے باعث بند ہوتی ہے۔
اس بارے میں ایک اور مقامی شخص صفدر حسین نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیاحوں کا سفر محفوظ بنانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے اور انہیں سہولیات فراہم کرے۔
سیاحتی مقام کے حوالے سے ایک بین الاقوامی ٹور آپریٹر رحمت کا کہنا تھا کہ ضلع شھگر سے اسکولی تک 100 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی سڑک ابتر صورتحال میں ہیں جس سے غیر ملکی گروہوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایک سیاح عارف حسین کا کہنا تھا کہ ریجن میں 3 جی اور 4 جی کی انٹرنیٹ سروس اور بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث ان کو سفر میں بے چینی کا باعث ہے۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز دیامیر میں گلگت بلتستان سیکریٹری داخلہ جواد حسین کی جانب سے گونر فارم کے مقام پر گلگت بلتستان مشترکہ انٹری پوائنٹ کا افتتاح بھی کردیا گیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری بھی اس چیک پوسٹ پر تعینات ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کو ہر سہولت فراہم کرنے اور ان کا سفر محفوظ اور یاد گار بنانے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
گلگت بلتستان کی سیاحت کے لیے این او سی کی پابندی ختم کردی
بلیغ الرحمٰن نے بتایا کہ غیر ملکی سیاحوں کو اب گلگت بلتستان جانے کے لیے این او سی درکار نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی سیاحوں پر این او سی کی پابندی 22 مئی کو ختم کی گئی.
بلیغ الرحمان نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ گلگت بلتستان حکومت کی درخواست پر پابندی ختم کی گئی، تاہم گلگت بلتستان حکومت کو سیاحتی سینٹر قائم کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ این او سی کی شرط غیر ملکی سیاحوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے لگائی گئی تھی۔
28 اپریل 2017 کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزارت سے این او سی حاصل نہ کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کے گلگت بلتستان کا دورہ کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان کو بھیجے جانے والے خط میں آگاہ کیا گیا تھا کہ غیر ملکی افراد وزارت سے کلیئرنس یا این او سی لیے بغیر گلگت بلتستان کا رخ کررہے ہیں جو قوانین کے خلاف ہے۔
تاہم گذشتہ ماہ مئی میں وزیر داخلہ نے اس پابندی کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کیلئے این او سی کی پابندی ختم کی جارہی ہے، اب سیاح بغیر این او سی کے گلگت بلتستان جا سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ تاہم بین الاقوامی این جی اوز، غیر ملکی افراد، ریسرچر اور کسی خاص منصوبے پر کام کے لیے این او سی کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا تھا ماضی میں یہ اقدام سیکیورٹی صورت حال بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا تھا، لیکن اداروں کی مشاورت کے بعد اب سیاحوں کیلئے این او سی کی پابندی کے فیصلے میں تبدیلی کی گئی۔
گلگت شہر کا ہر طرح کی گندگی اور آلودگی سے پاک صاف رکھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز
وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے احکامات پرگلگت شہر کو خوبصورت پاک صاف اور آلودگی سے محفوظ رکھنے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر/ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت نوید احمد نے ہنگامی ایکشن پلان پر کام شروع کر دیا اس سلسلے میں پہلے مرحلے کے آغاز میں ہنگامی بنیادوں پر سڑکوں اور گلیوں سے ملبہ اٹھانے کا کام شروع کیا گیا ہے ۔گلگت شہر کے مختلف حصوں سے ملبہ اٹھانے کیلئے ٹیمیں بھی تشکیل دیدیں گئیں تفصیلات کے مطابق گلگت شہر کا ہر طرح کی گندگی اور آلودگی سے پاک صاف رکھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں گلگت کے میں سڑکوں اور گلیوں سے ہر قسم کے ملبہ اٹھانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر /ایڈمنسٹریٹر گلگت نوید احمد نے چیف آفیسر جاوید اقبال کی سربراہی میں سیکٹروائز ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں ہر سیکٹر میں چیف آفیسر ماتحت زمہ دار اہلکاروں کے زریعے مانیٹرنگ کریں گے اس مقصد کیلئے شہر کو سیکٹروائز تقسیم کر کے ٹیمیں تشکیل دیکر انکے زمہ ہر قسم کا ملبہ اٹھانے کی زمہ داری سونپی گئی ہے شہر سے ہر طرح کے تعمیراتی و غیر تعمیراتی ملبے کو ہٹانے کے ساتھ شہر کو آلودگی اور گندگی سے پاک کر دیاجائے گا اسی کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر گلگت نے شہر اور محلے اور گلیوں میں ملبہ اور کچرے کو پھینکنے پر پابندی عائد کر دی ہیں دوران ڈیوٹی غفلت اور غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔گلگت شہر کو خوب صورت اور پاک صاف رکھنے کیلئے عوام کو ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے ساتھ تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
Gilgit Baltistan Dry fruits now you can purchase online and payment on delivery |گلگت بلتستان خشک میوے اب گھر بیٹھے آڈر کریں پیمنٹ سامان وصولی کے بعد
خشک میوے آڈر پر وصول کریں 100 فیصد ذمہ داری کے ساتھ
آڈر کی وصولی میں 14 سے 20 دن تک لگیں گے کیونکہ یہ آڈر ڈائریک گلگت بلتستان سے ہوں گے اور پیمنٹ وصولی کے بعد کریں
ہم وہی آڈر پلیس کریں گے جو ہمارے (گلگت بلتستان) میں پیداور ہوتے ہو۔ اور ہم جو چیز بھی آپ معزز کسٹمر تک پہچائیں گے مکمل ذمہ داری کے ساتھ 100 فیصد اصلی (آپ کے آڈر) کے مطابق سامان وصول کروائیں گے ۔ کسی بھی قسم کی شکایات، یا مشورے کے لئے ہمارے فیس بک ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
آڈر کرنے کےلئے کلیک کریں
Dry fruits are great source of proteins, vitamins, minerals, dietary fibre and an ideal substitute for high-calorie snacks.
Order Now
Almondsare rich in anti-oxidants and have zero cholesterol
Almonds: A healthy substitute for conventional snacking options, generally high in sugar, almonds can be enjoyed anytime. Almonds are rich in anti-oxidants and have zero cholesterol. They are known to provide relief from constipation, respiratory issues and heart disorders, besides being great for hair, skin and teeth.
Order Now
Walnuts: This shelled nutty delight is extremely nutritious. It is loaded with vital Omega-3 Fatty acids, dietary Fibers, proteins, anti-oxidants, vitamins and minerals,
Order Now
Apricots: Apricots provide for 47% of your daily vitamin A needs in a single serving and are a good source of potassium, vitamin E and copper. Vitamin E, like all anti-oxidant vitamins ( A and C ), is vital in protecting the cells from damage caused by free radicals, This is especially important in summer when the sun is at its strongest, Dried apricots are good for the skin, eyes and the immune system,
Order Now آڈر کرنے کےلئے کلیک کریں
Mulberries : Delicious and nutritious, natural dried black mulberries are an amazing snack. they are high in vitamin C, iron, calcium, and protein, and are a good source of dietary fiber, these crunchy black mulberries have no additives and pack a natural, sweet taste.
Order Now
Shilajit : Shilajit is a thick, sticky tar-like substance with a color ranging form white to dark brown, found predominantly in Himalaya, Karakuram, Tibet mountains, Caucasus mountains, Alti Mountains, and mountains of Gilgit Baltistan .
Order Now
Order Now Payment on Delivery
Order Now
بشکریہ سنو ٹی وی میڈا ٹیم
Social work|social issues | social problem|Social development | writer Syed Kamran Social Scientist
سماجی بہبود میں ماسٹر کرنے کے بعد یہ بات سمجھ آیا کہ ہمارے معاشرے میں سانئنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور تحقق کو بڑی پزیرائی ملتی ہے۔۔۔۔۔
جبکہ انسان اور انسانیت کی خاظر کی جانے والے تحقیق اور تجربوں سے لوگ صرف ایی جی اوز چلانے،جامعات کے لائبریزز میں تحقیقی مقالے ڈمپ رکھنے یا پھر پروجکٹ بنا کے پیسے کمانے کے سوا یہ تحقیق کسی کام کے نہیں ۔۔
اگر ایسا نہیں تو آج ہمارے معشرے میں انسانیت کی بھوکے نظر نہیں آتے، دن بہ دن لوگ اپنے انا میں مصروف نظر آتے ہیں اور غریب طبقہ دن بہ دن غریب ہوتے جا رہے ہیں حقوق العباد جو کہ ہر انسان پر واجب / فرض ہیں مگر لوگ بھوک پیاس ، افلاس و غربت کی وجہ سے مرتے نظر آتے ہیں ،،، سماجی بہود کے ادارے دن بہ دن اپنی اہمیت ، فرائض کم ہوتے دیکھتے ہیں۔۔۔ ہاں بلکہ ایک چیز یہ بھی ہے کہ
سماجی بہبود اور سماجی علوم پاکستان میں ختم ہوتے نظر آرہیے ہیں وجہ خدا ہی جانتا ہیں مگر وہ وقت دور نہں جب ہر گھر سے کم از کم ایک بچے کو سماجی علوم میں ماسٹر کرنے پر زور دیا جائے گا ، جہاں ہر سوسائٹی اور ہر طبقے کے لوگ سماجی اہمت کو سمجھے کے بعد اس علوم کی طرف آئیں گے مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ سائیس اور ٹیکنالوجی لوگوں کو بے انتہا مصروف کیا ہوا ہو گا کسی کے پاس ٹائم نہیں ہو گا کہ وہ والدیں سے ملاقات کریں خیریت پو چھے، ماں کا پیار لے، بہن بھائیوں سے شفقت بھانٹے،محلے والے بھوک پیاس اور افلاس و غربت کی وجہ سے مر چکے ہو ں گے مگر آ پ کو خبر ہونے سے پہلے ان کی تدفین ہو چکا ہو گا۔۔۔
یہ وقت آج امریکہ سمیت ترقی یافہ مماملک میں دیکھی جا سکتی ہیں افسوس اس بات پہ ہوتا ہے کہ لوگ پڑھے لکھے انپڑ بنتےجا رہیے ہیں ، انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے، کہی پر سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے تو کہی پہ معاشی کہی پر سائنس اور ٹیکنالوجی اپنا رنگ دیکھانے میں مصروف ہیں تو کہیں پہ انسانیت کا جنازہ اُٹھا کر کے لوگ دانت دیکھاتے نظر آتے ہیں جی ہاں میں پاکستان کی بات کر رہا ہوں ۔
ہاں وہ پاکستان جسے قائد نے اسلام ناب کی پرچار اور اسلامی تعلیمات کی تحقیق کے لئے بنائے تھے ہاں وہ پاکستان جس کی خاطر بے شمار لاشئے اُٹھائے تھے ہاں وہ پاکستا ن جو آج بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ما سوائے پاکستان آرمی کون
اس ملک سے مخلص ہیں ،کون اس کی بقاء کی ضمانت ہیں ، سیاسی ٹولے اپنے بقاءکے لئے پریشان ہے تو کاروباری حضرات اپنی کاروبار کے لئے پریشان سائنسدان اپنے تحقیق کو صحیح ثابت کرنے میں مصروف مگر ایک طبقہ ہےجو واقعاً کام کر سکتے ہیں وہ ہے سماجی علوم کے طالب علم ، وہ ہے سماجی محقیق، وہ ہے ہم ہاں ہم ہیں جو ملک خداد کے محفظ ہیں
سماجی علوم کو عام کرنے کی ضرورت ہیں جس کے لئے بے شمار قربانی کی دینا پڑے گا۔ سماجی علوم پڑھانے والے ادارے ، ایچ ایس سی اور جامعات کو بھی چاہئے کہ سماجی علوم کے دروازے کھولے تا نئی نسل نو تحقیق کر کے دنیا کو دیکھائے کہ انسانیت کیا چیز ہیں، اس کی کیا اہمیت ہیں۔
بائیولوجی، کیمسٹیری ، سمیت دیگر علوم پڑھانے والے ادارے اور شعبہ جات کے ماہریں اپنے علوم کی خاطر صبح ، شام اور آج کل رات کو بھی بچوں کو کلاسس رکھتے ہیں وجہ یہی ہیں کہ یہ علوم / شعبہ دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، سماجی علوم کے ادروں کو بھی چاہئے کہ بچوں کو حصول علم کے لئے شرائط کم کر کے تحقیق کرنے دے جائے، مینسڑی آف سوشل ویلفئیر کو بھی چاہئے کہ سوشل ورک کی ترقی کے لئے این جی اوز بنانے کے بجائے ایج ایس سی سے بات کرئے اور پاکستان بھر کے سکول کالجز اور جامعات میں سوشل ورک کے علوم کو عام کرئے اور سلیبس کا حصہ بنایا جائے
بصورت دیگر وقت مشکل کی طرف جا رہئے ہیں اور سماجی بہبود میں ڈیگری لینے والے طالب علم مارکیٹنگ، سیاست، اور چوکیداری کے سوائے کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ابھی بھی وقت ہیں آپ اور ہم مل کر اس کر ترقی اور خوشحالی کے لئے میدان میں آئے نہیں تو کل آنے والے نسل نو ہمیں معاف نہیں کریں گے ۔۔۔
جبکہ انسان اور انسانیت کی خاظر کی جانے والے تحقیق اور تجربوں سے لوگ صرف ایی جی اوز چلانے،جامعات کے لائبریزز میں تحقیقی مقالے ڈمپ رکھنے یا پھر پروجکٹ بنا کے پیسے کمانے کے سوا یہ تحقیق کسی کام کے نہیں ۔۔
اگر ایسا نہیں تو آج ہمارے معشرے میں انسانیت کی بھوکے نظر نہیں آتے، دن بہ دن لوگ اپنے انا میں مصروف نظر آتے ہیں اور غریب طبقہ دن بہ دن غریب ہوتے جا رہے ہیں حقوق العباد جو کہ ہر انسان پر واجب / فرض ہیں مگر لوگ بھوک پیاس ، افلاس و غربت کی وجہ سے مرتے نظر آتے ہیں ،،، سماجی بہود کے ادارے دن بہ دن اپنی اہمیت ، فرائض کم ہوتے دیکھتے ہیں۔۔۔ ہاں بلکہ ایک چیز یہ بھی ہے کہ
سماجی بہبود اور سماجی علوم پاکستان میں ختم ہوتے نظر آرہیے ہیں وجہ خدا ہی جانتا ہیں مگر وہ وقت دور نہں جب ہر گھر سے کم از کم ایک بچے کو سماجی علوم میں ماسٹر کرنے پر زور دیا جائے گا ، جہاں ہر سوسائٹی اور ہر طبقے کے لوگ سماجی اہمت کو سمجھے کے بعد اس علوم کی طرف آئیں گے مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ سائیس اور ٹیکنالوجی لوگوں کو بے انتہا مصروف کیا ہوا ہو گا کسی کے پاس ٹائم نہیں ہو گا کہ وہ والدیں سے ملاقات کریں خیریت پو چھے، ماں کا پیار لے، بہن بھائیوں سے شفقت بھانٹے،محلے والے بھوک پیاس اور افلاس و غربت کی وجہ سے مر چکے ہو ں گے مگر آ پ کو خبر ہونے سے پہلے ان کی تدفین ہو چکا ہو گا۔۔۔
یہ وقت آج امریکہ سمیت ترقی یافہ مماملک میں دیکھی جا سکتی ہیں افسوس اس بات پہ ہوتا ہے کہ لوگ پڑھے لکھے انپڑ بنتےجا رہیے ہیں ، انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے، کہی پر سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے تو کہی پہ معاشی کہی پر سائنس اور ٹیکنالوجی اپنا رنگ دیکھانے میں مصروف ہیں تو کہیں پہ انسانیت کا جنازہ اُٹھا کر کے لوگ دانت دیکھاتے نظر آتے ہیں جی ہاں میں پاکستان کی بات کر رہا ہوں ۔
ہاں وہ پاکستان جسے قائد نے اسلام ناب کی پرچار اور اسلامی تعلیمات کی تحقیق کے لئے بنائے تھے ہاں وہ پاکستان جس کی خاطر بے شمار لاشئے اُٹھائے تھے ہاں وہ پاکستا ن جو آج بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ما سوائے پاکستان آرمی کون
اس ملک سے مخلص ہیں ،کون اس کی بقاء کی ضمانت ہیں ، سیاسی ٹولے اپنے بقاءکے لئے پریشان ہے تو کاروباری حضرات اپنی کاروبار کے لئے پریشان سائنسدان اپنے تحقیق کو صحیح ثابت کرنے میں مصروف مگر ایک طبقہ ہےجو واقعاً کام کر سکتے ہیں وہ ہے سماجی علوم کے طالب علم ، وہ ہے سماجی محقیق، وہ ہے ہم ہاں ہم ہیں جو ملک خداد کے محفظ ہیں
سماجی علوم کو عام کرنے کی ضرورت ہیں جس کے لئے بے شمار قربانی کی دینا پڑے گا۔ سماجی علوم پڑھانے والے ادارے ، ایچ ایس سی اور جامعات کو بھی چاہئے کہ سماجی علوم کے دروازے کھولے تا نئی نسل نو تحقیق کر کے دنیا کو دیکھائے کہ انسانیت کیا چیز ہیں، اس کی کیا اہمیت ہیں۔
بائیولوجی، کیمسٹیری ، سمیت دیگر علوم پڑھانے والے ادارے اور شعبہ جات کے ماہریں اپنے علوم کی خاطر صبح ، شام اور آج کل رات کو بھی بچوں کو کلاسس رکھتے ہیں وجہ یہی ہیں کہ یہ علوم / شعبہ دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، سماجی علوم کے ادروں کو بھی چاہئے کہ بچوں کو حصول علم کے لئے شرائط کم کر کے تحقیق کرنے دے جائے، مینسڑی آف سوشل ویلفئیر کو بھی چاہئے کہ سوشل ورک کی ترقی کے لئے این جی اوز بنانے کے بجائے ایج ایس سی سے بات کرئے اور پاکستان بھر کے سکول کالجز اور جامعات میں سوشل ورک کے علوم کو عام کرئے اور سلیبس کا حصہ بنایا جائے
بصورت دیگر وقت مشکل کی طرف جا رہئے ہیں اور سماجی بہبود میں ڈیگری لینے والے طالب علم مارکیٹنگ، سیاست، اور چوکیداری کے سوائے کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ابھی بھی وقت ہیں آپ اور ہم مل کر اس کر ترقی اور خوشحالی کے لئے میدان میں آئے نہیں تو کل آنے والے نسل نو ہمیں معاف نہیں کریں گے ۔۔۔
Subscribe to:
Comments (Atom)







